علم کے پودےلگائیے* بہلای کے پودے لگایےhttps://chat.whatsapp.com/Gu9TRYm7ebp2czZmu4ZFYt https://chat.whatsapp.com/DMYrr6cAlka3iHf4lLdlot 🥀 *بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق* 🥀 *حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم علیہ السّلام اور کڑی آزمائشیں* حضرت ابراہیم خلیل الله علیہ السّلام کی مبارک زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی راہ میں آپ علیہ السلام پر *کڑی آزمائشیں* آئیں مگر آپ علیہ السلام ہر امتحان میں کامیاب رہے۔ قرآن مجید میں ہے: *وإذ ابتلى إبراهيم ربه بكلمات فأتمهن* ترجمہ: اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں۔ (پ 1 سورة البقره، آیت 124) جن باتوں سے حضرت ابراہیم علیہ السّلام آزمائے گئے وہ کون سی باتیں تھیں، اس میں مختلف اقوال ہیں تفسیر ابن ابی حاتم مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے تحت یہ امتحانات لکھے ہیں : ( 1 ) جب انہیں حکم دیا گیا تو الله تعالی کے لیے قوم سے جدائی اختیار کی ( 2 ) اللہ تعالی کے لیے نمرود سے مناظر و مقابلہ کیا اور خطرات کے باوجود اس پر ڈٹے رہے ( 3 ) جب انہیں اللہ تعالی کے لیے آگ میں ڈالا گیا کہ وہ جل جائیں تو اس پر صبر کیا ( 4 ) اس کے بعد اپنے وطن سے اللہ تعالی کے لیے ہجرت کی جب انہیں اللہ تعالی کی طرف سے حکم دیا گیا ( 5 ) بیوی اور بچے کی جدائی پر آزمائے گئے ( 6 ) انہیں مہمان نوازی کا حکم دیا گیا اور اس میں آنے والی مشقت پر انہیں صبر کا علم ہوا جس میں آپ پورے اترے (7 ) مال میں آزمایا گیا تو اس میں پورے اترے ( 8 ) اپنے بچے کے ذبح کرنے پر آزمائے گئے جب انہیں رب العالمین عزوجل نے ذبح کرنے کا حکم دیا ( 9 ) جب ان تمام آزمائشوں پر پورا اترے تو اللہ نے ان سے فرمایا : *وأسلم* ترجمہ: گردن رکھ ، عرض كیا: *أسلمت لرب العالمين* ترجمہ: میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا۔ (پ 1 سورة البقره، آیت 131) (تفسير ابن أبي حاتم تحت الاية المذكوره، ج 1، ص 220 مکتبه نزار مصطفی الباز ، عرب) *بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق* *عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی*

 *علم کے پودے لگائیے* بہلای کے پودے لگایے

امام محمد عبدالرؤف مُناوی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ  لکھتے ہیں:

 ایک بادشاہ شکار کے لئے نکلا تو ا س نے دیکھاکہ ایک  بوڑھاآدمی  زیتون کا پودا لگا رہا ہے۔

بادشاہ نے  اس سے کہا:

اے شخص !تم تو انتہائی بوڑھے ہو جبکہ زیتون کا درخت تیس سال کے بعد پھل دیتا ہے پھر تم  یہ پودا کیوں لگا رہے ہو؟

بوڑھے نے جواب دیا:

بادشاہ سلامت!ہم سے پچھلے لوگوں نے جو درخت لگائے تھے  ان کا پھل ہم نے کھایا،

 اب ہم اپنے بعد والوں کے لئے درخت لگارہے ہیں۔

یہ  جواب سن کر بادشاہ  خوش ہوا اور اس نے کہا:’’زہ‘‘۔

ایران کے بادشاہوں کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی بادشاہ کسی شخص  کے لئے یہ لفظ کہتا تو اس شخص کو  ایک  ہزار دینار ( یعنی سونے کے سکّے)دیے جاتے۔

اس شخص کوایک  ہزار دینار  دے دیے گئے تو اس نے  بادشاہ سے دوبارہ عرض کیا:

بادشاہ سلامت!زیتون کا درخت تیس سال کے بعد پھل دیتا ہے لیکن اس درخت نے تو فی الفور پھل دے دیا۔

بادشاہ نے دوبارہ ’’زہ‘‘ کہا اور بوڑھے کو ہزار دینار مزید د ے دیے گئے۔

بوڑھے نے بادشاہ کی خدمت میں تیسری بار عرض کیا:

بادشاہ سلامت!زیتون کا درخت سال میں ایک مرتبہ پھل دیتا ہے جبکہ اس درخت نے تو ایک ہی وقت میں دو مرتبہ پھل دے  دیا ہے۔

بادشاہ نے پھر’’ زہ‘‘ کہا اور بوڑھے کو تیسری مرتبہ ہزار دینار دیے گئے۔

یہ  منظر  دیکھ کر بادشاہ کے ہمراہی قافلے کو لے کر جلدی  جلدی  وہاں سے روانہ ہوگئے اور کہنے لگے:

اگر ہم اس شخص کے پاس کھڑے رہے تو بادشاہ کا  سارا خزانہ خالی ہوجائے گا۔

(فیض القدیر ج3ص41)  

‫ہمارے بزرگوں  نے صدیوں پہلے  علم کے جو پودے لگائے تھے آج تک ہم ان کے پھلوں سے مستفید ہورہے ہیں۔

اب  ہماری  یہ  ذمہ داری ہے کہ اسلاف کے  لگائے ہوئے ان پودوں اللہ فرماتا ہے تم دوسروکا بہلا کرو مے تمہارا بہلا کرو گا 

ایسی طرہ اچہای نیکی کرتے ہوے مت سوچیں مجہے کیا ملے گا 


ا نہیں  عام کرنے کے ساتھ ساتھ علم کے ایسے نئے  پودے  بھی لگائیں جو ہماری آنے والی نسلوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں ۔

ایسا  کرنے سے صرف دوسروں کا ہی بھلا نہ ہوگا  بلکہ جس طرح  پودا لگانے والے بوڑھے کو فائدہ حاصل ہوا ،

اسی طرح ان شاء اللہ  اخلاص کے ساتھ علم کی خدمت کرنے والا دنیا میں بھی کسی کا محتاج نہ رہے گا۔

۔

اسی لیے کسی نے کیا ہی خوب  کہا ہے ۷؟

مشکل وقت میں سب کا کام آیا کرو)

کیوں کہ مشکل وقت سب پر آیا کرتا

کسی کا صبر دیکھنے کیلئے اور کسی کا ظرف 


Comments

Popular posts from this blog

🥀 *بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق* 🥀